ہفتہ، 19 اپریل، 2014

حامد میر پر حملہ قابل مذمت لیکن آئی ایس آئی پر بغیر ثبوت کے الزام بھی قابل تحسین نہیں۔ یو نس مجاز ۔


حامد میر پر حملہ قابل مذمت لیکن آئی ایس آئی پر بغیر ثبوت کے الزام بھی قابل
تحسین نہیں۔
یو نس مجاز
حامد میر کے نظریات و خیالات سے اختلاف کے باوجود ان پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن یہ بھی انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جیو نیوز اور حامد میر کے بھائی عامر میر نے بلا کسی ثبوت کے قومی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی اور اس کے چیف پر حملے کی ذمہداری ڈال دی ہے جس کی آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلز کے ذریعے نہ صرف تردید کی ہے بلکہ حامد میر پر حملے کی مذمت کی ہے ،لگتا ہے کوئی تیسری قوت یہ گھناؤنا کھیل کھیلنے کے لئے سر گرمِ عمل ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ آئی ایس آئی اس نازک دور میں اس طرح کے واقعہ میں ملوث ہو سکتی ہے انصار عباسی ،احمد نورانی کو خفیہ دھمکیاں اور اب حامد میر پر حملہ ایسے عناصر کی کارستانی ہے جو پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے کو بدنام کرنے کی ایک منظم مہم ایک عرصہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں میڈیا اور ان اداروں کو لڑانے کی اس سازش کو جیو نیوز والوں کو بھی سمجنا چائیے اور اپنی اداؤن پر بھی غور کرنا چائیے جو جمہوریت اور آزادی صحافت کے نام پر دانستہ یا نا دانستہ جس غیر ملکی ایجنڈے پر گامزن ہیں اس پر ایک عام پاکستانی خوش نہیں ہے کیونکہ یہ ملک کی خدمت نہیں ،مغربی میڈیا بھی آزادی کا علمبردار ہونے کے باوجود اپنے قومی مفادات پر کمپرومائز نہیں کرتا ،لیکن پاکستانی میڈیا نے آزادی کے نام پر ملک دشمنی کا جو کھیلواڑ کر رکھا ہے عام پاکستانی اس سے سخت نالاں ہے اس لئے اپنی آزادی کو دوسرے کی ناک تک نہ جانے دیا جائے ،اور قومی سلامتی کے اداروں کو اس طرح بدنام کرنے کی مہم بند کی جائے ،،،اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آج مغربی میڈایا سمیت بھارتی میڈیا جو ہماری قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف پرپیگنڈا کر رہا ہے اس کے بھر پور مواقع جیو نیوز اور اس کے اینکر اپنی لبرل ازم کے نام پر فراہم کرتے چلے آرہے ہیں جو کسر رہتی تھی وہ حامد میر کے حملے نے پوری کر دی ہے اور ہمارے دشمن یہی چاہتے تھے ایسے میں آئی ایس آئی جو قومی سلامتی کی ذمہدار ہے کیسے ایسی حرکت کر سکتی ہے ،پلیز سمجھنے کی کوشش کیجیے ،،گھر کے اختلافات کو گھر میں رہنے دیجیئے ذاتی مفادات اور رنجشوں کی آڑ میں ملکی سلامتی کو داؤ پر نہ لگائیے ، ایک اطلاع کے مطابق طالبان پنجاب چیپٹر نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ،،اللہ تعالیٰ حامد میر کو صحت کاملہ عطا کرے، آمین

جمعرات، 17 اپریل، 2014

story



Many years ago, a friend of mine told me a true story narrated to him by his elders, which permanently printed in my memory. He said, during the heydays of the British Raj, a Laat Sahib wanted to kiss his wife on the veranda of his bungalow. She pushed him away pointing at the presence of nearby servants. Laat Sahib laughed and pointed his finger at a dog, a few cows and chickens in the foreground, and asked her whether she would have pushed him away in front of those animals? Then without waiting for a reply he carried on “we are the masters of these people, who cares if they are watching us”
One of the servants who understood English started to smile. The one next to him asked him why was he smiling. He narrated what Laat Sahib told Ma'am Sahiba. He also started smiling. For them it was a joke but in reality it showed their salve mentality. Our nation has inherited that mentality.
Let us be grateful to the US and other Donor countries for feeding us. So what if they humiliate us now and again. Before objecting to their attitudes or rejecting their assistance we have to come out of our slave mentality and learn how to live like free souls. In the meantime, while we are in that mode; let us come to terms with our humiliation, enjoy our slave mentality and. smile at our dead souls, just like those servants many years ago at the bungalow of Laat Sahib.

Dr Ghayur Ayub

ہفتہ، 12 اپریل، 2014

ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﯽ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ // ضرور دیکھیں

ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻟﻨﺪﻥ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﯽ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﮐﺮﺗﯽ
ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﻮﯾﭩﺮ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﺑﻨﯽ
ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ.
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺘﮯ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ
ﮐﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻟﻨﺪﻥ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ
ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﺟﺲ
ﻧﮯ ﭨﺎﺋﯽ ﺳﻮﭦ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ ﭘﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﺮﺩ ﮐﺘﻮﮞ
ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻬﭩﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﺎ
ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺷﺎﺋﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮐﺮﻧﺎ

ﮨﮯ... . ﻏﺮﺽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ
ﻣﻐﺮﺏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﻻﻟﺖ ﮐﯽ ﻣﻨﮧ ﺑﻮﻟﺘﯽ
ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮨﮯ.
ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻓﺎﺷﺴﭧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺩﻥ
ﺭﺍﺕ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﭘﯿﺶ
ﮐﺮ ﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﮑﺘﮯ؟؟.
ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﻧﺎﻡ ﻭ ﻧﮩﺎﺩ ﻟﺒﺮﻝ ﻓﺎﺷﺴﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭼﺎﮬﯿﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺐ ﭼﺎﮬﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﭩﮧ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﯿﭩﮯ؟؟
ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﻢ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ﺍﻭﺭ
ﻧﮧ ﮬﯽ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ
ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ، ﮬﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻦ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻡ
ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮬﻤﯿﮟ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﮬﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﮬﮯ۔
ﺍﻟﺤﻤــــــــﺪ ﻟﻠﻠﮧ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سوموار، 17 مارچ، 2014

احوالِ مولاقات،،،،،،یونس مجاز اور فاروق فیصل خان

      ایک بھائیوں جیسے دوست سے ملاقات کا احوال فاروق فیصل خان( ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ نئی بات ) سے رشتہءِ خلوص کم و پیش گزشتہ 15 سالوں پر محیط ہے بھائیوں جیسے اس تعلق کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب فاروق فیصل بھائی نے بطور ریزیڈینٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان اسلام آباد کا چارج سنبھالا تو راقم پہلے سے روزنامہ پاکستان کے ساتھ منسلک تھا پھر مجھے بیوروچیف بنا دیا گیا فاروق فیصل خان نے بعد ازاں روزنامہ دن راولپنڈی کی اشاعت کا آغاز کیا تو راقم کو بھی ساتھ ہی رکھا، سو میں نے روزنامہ پاکستان اور روزنامہ دن کو خبروں کی ترسیل جاری رکھی لیکن پھر میں اپنی کم ہمتی کی وجہ سے صرف روزنامہ پاکستان تک محدود رہ گیا اور فاروق بھائی کی پرواز جاری رہی وہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر بن گئے ان کا شمار اسلام آباد کے انتہائی با اثر  سینئر صحافیوں میں ہو تا ہے اپنی کمیونٹی کے لئے میڈیا کالونی سمیت بہت سے فلاح و بہبود کے کام ان کے کریڈٹ پر ہیں ،آج کل ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ نئی بات ہیں ۔چونکہ زمانے کے نشیب وفراز نے رابطوں کو مفقود کردیا تھا اس لیئے دس سال سے کوئی میل ملاقات کی سبیل نہ نکل سکی،14 مارچ کو اکادمی ادبیات اسلام آباد مین عزیز دوست اور بھائی اختر رضا سلیمی کی کتاب" خواب دان " کی تقریبِ رونمائی  میں شرکت کے سلسلہ میں اسلام آباد جا نا ہوا،چونکہ تقریب سہ پہر چار بجے تھی اور میں 12 بجے اسلام آباد پہنچ گیا تھا سو گردشِ ماہ وسال کے طویل فاصلوں کو سمیٹتے ہوئے  روزنامہ نئی بات کے آفس جا نکلا لیکن فاروق فیصل خان ابھی آفس نہیں پہنچے تھے، ویٹنگ روم میں محو انتظار تھا کہ کچھ دیر بعد فاروق بھائی نمو دار ہوئے اور دیکھتے ہی یہ کہتے ہوئے گلے لگا لیا "او جناب کی حال اے کتھے غائب ہو گئے سو"بازو سے پکڑ کر اپنے آفس میں لے گئے، میں جو خوشگوار حیرت مین گم تھا یہ سوال داغ دیا سر مجھے پہچانا ،کمال کرتے ہیں یو نس صاحب بلکہ مجاز صاحب ابتدائی دنوں کے ساتھیوں کو کوئی بھول سکتا ہے اور پھر آپ سے تو بھائی بندی کا رشتہ ہے، پھر اپنے آفس کے چند دوستوں سے راقم کا تعارف انتہائی محبت سے کروایا،بیتے دنوں پر پڑی گرد جھاڑی، چائے پی، نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے اجازت چائی تو حکم ملا کھانا اکھٹے کھائیں گے نماز پڑھ آئیں نماز سے واپس آیا تو آفس کے دیگر لوگوں کے ہمراہ ان کے آفس مین کھانا کھایا آغا یاسر بھائی نے اس ملاقات کو کیمرے کی آنکھ مین محفوظ کر کے ان لمحوں کو یادگار بنا دیا آغا یاسر صاحب سے بھی روزنامہ پاکستان کے زمانے سے خلوص کا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔۔بقول شاعر ؛
                                       یہ رشتہءِ خلوص ہے ٹوٹے گا کس طرح ۔
                                     روحوں کو چھو سکے ہیں کب فنا کے ہاتھ ۔
رابطے جاری رہنے کے عہد کے ساتھ اجازت چاہی اور اگلی منزل کی طرف چل نکلا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 کالم نگار و شاعر یو نس مجاز ،ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ نئی بات و سابق صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد فاروق فیصل خان(تصاویر آغا یاسر خان
)